حاصل نہ ہوا گو مجھے دیدار محمد
دیتا ہے مجھے روشنی کردار محمد
ہر آیت قرآں ہے طہارت کا خزینہ
احکام ہیں یزداں کے بگفتار محمد
اے خاک مدینہ تجھے آنکھوں سے لگا لوں
دامن ہے ترا مطلع انوار محمد
دشمن کا بھی مانا نہ برا بلکہ دعا دی
دیکھے تو کوئی جذبۂ ایثار محمد
محشر میں کریں گے وہی بخشش کی سفارش
ہر سچے مسلمان سے ہے اقرار محمد
جنت نہ ملے حشر میں تو اپنی بلا سے
خوش ہوں کہ ملے گا مجھے دیدار محمد
خود سیرت یزداں کا آئینہ و صورت
اک نور کا مینار ہے کردار محمد
گلہائے نوازش ذرا دو چار ادھر بھی
صدقے ترے اے دامن گلبار محمد
کرتے رہے توحید کے چشمے اسے سیراب
شاداب و شگفتہ رہے گلزار محمد
محبوب الٰہی وہ رسول عربی ہے
کل امت اسلام ہے دلدار محمد
انسان کو انسان بنانا ہے ابھی تو
ہے تشنۂ تکمیل ابھی کار محمد
منعم سے زیادہ یہاں مفلس کی ہے پرسش
دربار محمد ہے یہ دربار محمد
میرا بھی ہے مخدوم وہ محبوب الٰہی
میں بھی ہوں شبابؔ ادنیٰ پرستار محمد
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.