میں نے پوچھا حسن سے کہ دیکھا ہے کہیں
میں نے پوچھا حسن سے کہ دیکھا ہے کہیں
میری سرکار سا حسیں
حسن نے کہا دلبری کی قسم نہیں نہیں نہیں
ولیوں سے جواب ان کا پوچھا، نبیوں میں مثال ان کی ڈھونڈی
قدسیوں کی انجمن میں میں نے، عظمتِ جمال ان کی ڈھونڈی
پوچھا جبرئیل سے کہ دیکھا ہے کہیں ایسا شاہِ نازنیں
بولا جبرئیل ذاتِ حق کی قسم نہیں نہیں نہیں
یوں ہے کائنات میں مدینہ، جیسے ہو انگوٹھی میں نگینہ
اس گلی کے ذرے وہ ہیں
جن سے ضوفشاں ہے مہر و ماہ کا سینہ
میں نے پوچھا عرش سے کہ دیکھی ہے کہیں مدینے سی زمیں
عرش نے کہا برتری کی قسم نہیں نہیں نہیں
لامکاں کے مکین ہیں جو اک چٹائی ان کا ہے بچھونا
دو جہاں کے تاجدار ہو کر پھر بھی فرشِ خاک پر ہے سونا
پوچھا فقر سے کہ دیکھا ایسا شہِ دیں، جو ہو بوریا نشیں
فقر نے کہا سادگی کی قسم نہیں نہیں نہیں
آدمی کو آدمی بنایا فلسفہ حیات کا سکھایا
ڈوبتے سفینہ جہاں کو ساحلِ مراد پر لگایا
میں نے پوچھا خضر سے فلک ہو یا زمیں ایسا ہادی ہے کہیں
خضر نے کہا راہبری کی قسم نہیں نہیں نہیں
زلفیں ہیں میرے حضور کی یا رحمتوں کی سرمئی گھٹائیں
گیسوؤں کے پیچ کہہ رہے ہیں ہم ہی مجرموں کی ہیں پناہیں
میں نے پوچھا رات سے کہ دیکھی ہیں کہیں ایسی زلف عنبریں
رات نے کہا زلف ہی کی قسم نہیں نہیں نہیں
لب میرے حضور کے ہیں ایسے بھیک جن کی لعل ہیں یمن کے
سرخی اور تازگی نہ پوچھو پانی پانی پھول ہیں چمن کے
میں نے پوچھا پھول سے او باغ کے مکیں دیکھے ایسے لب کہیں
پھول نے کہا پنکھڑی کی قسم نہیں نہیں نہیں
ابرو ہیں کہ منزلِ دنیٰ ہے چہرہ ہے کہ شرحِ والضحیٰ ہے
حسن ہے وہ شاہِ دلبراں کا آپ جس پہ ذاتِ حق فدا ہے
میں نے پوچھا عشق سے کہ دیکھا ہے کہیں ایسا حسن دلنشیں
عشق نے کہا عاشقی کی قسم نہیں نہیں نہیں
تابشِ رخِ حضور ہے وہ مہر و ماہ جس کے ہیں بھکاری
دن کو آفتاب رخ پہ صدقے رات کو قمر ہے اس پہ واری
میں نے پوچھا نور سے کہ دیکھا ہے کہیں ایسا عارضِ مبیں
تو نور نے کہا روشنی کی قسم نہیں نہیں نہیں
قامت صلاۃ کی صدائیں قامتِ حضور کی ہیں دھومیں
قد وہ ہے کہ شاخ ہائے طوبیٰ ذکر جس کا چھیڑ کر کے جھومیں
میں نے پوچھا سرو سے کہ دیکھی ہے کہیں ایسی قامتِ حسیں
تو سرو نے کہا سروری کی قسم نہیں نہیں نہیں
اے کشا کمالِ مصطفائی جلوہ گر ہے ذاتِ کبریائی
وہ درِ حضور ہے اے ساجدؔ سجدہ ریز ہے جہاں خدائی
پوچھا میں نے جب کہ تو نے دیکھا اے جبیں ایسا آستاں کہیں
بولی یوں جبیں بندگی کی قسم نہیں نہیں نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.