Font by Mehr Nastaliq Web

آتش عشق میں جو جلتا ہوگا

شاہ عظیم آبادی

آتش عشق میں جو جلتا ہوگا

شاہ عظیم آبادی

MORE BYشاہ عظیم آبادی

    آتش عشق میں جو جلتا ہوگا

    اس کو ہر شعلہ میں تیرا ہی نظارہ ہوگا

    اے بتو! حق پہ نہ ہوگا کبھی باطل غالب

    جو خدا کا ہوا ہرگز نہ تمہارا ہوگا

    جوشِ غم میں ہو اگر دیدۂ پرنم گریاں

    ایک قطرہ بھی جو ٹپکے گا تو دریا ہوگا

    اس کی آنکھیں پسِ مردن بھی کھلی ہی ہوں گی

    جو ترے شربت دیدار کا پیاسا ہوگا

    حشر میں غم نہیں اس کا جو نہ پوچھا جاؤں

    امتی کہہ کے کوئی پوچھنے والا ہوگا

    کس نے کی ہیں یہ کراہیں سر بستر شب بھر

    شاہؔ ہوگا وہی نا کامِ تمنا ہوگا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے