آتش عشق میں جو جلتا ہوگا
آتش عشق میں جو جلتا ہوگا
اس کو ہر شعلہ میں تیرا ہی نظارہ ہوگا
اے بتو! حق پہ نہ ہوگا کبھی باطل غالب
جو خدا کا ہوا ہرگز نہ تمہارا ہوگا
جوشِ غم میں ہو اگر دیدۂ پرنم گریاں
ایک قطرہ بھی جو ٹپکے گا تو دریا ہوگا
اس کی آنکھیں پسِ مردن بھی کھلی ہی ہوں گی
جو ترے شربت دیدار کا پیاسا ہوگا
حشر میں غم نہیں اس کا جو نہ پوچھا جاؤں
امتی کہہ کے کوئی پوچھنے والا ہوگا
کس نے کی ہیں یہ کراہیں سر بستر شب بھر
شاہؔ ہوگا وہی نا کامِ تمنا ہوگا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.