دم مرگ پاس اپنے جو وہ گل عذار ہوتا
دم مرگ پاس اپنے جو وہ گل عذار ہوتا
مجھے موسم خزاں میں مزۂ بہار ہوتا
مرے حال پر صبا کی جو نگاہ لطف ہوتی
ترے کوچے میں نگارایہ مرا غبار ہوتا
نہ مثال مرغ بسمل یہ پھڑک کے جان دیتا
ترے ناوکِ نگہ کا جو نہ دل شکار ہوتا
ترے عشق کے بدولت مرے نالۂ حزیں سے
کوئی دل کو تھام لیتا کوئی بے قرار ہوتا
اسے عندلیب شیدا جو ذرا بھی دیکھ لیتی
یہ ہر ایک پھول گلشن کا نظر میں خار ہوتا
میں وہ سوختہ جگر ہوں کہ جو ہوتا دفن میں بھی
مری قبر کے سرہانے شجر چنار ہوتا
ہوں وہ نامراد میں بھی جو ہوتا نخل گلشن
نہ تو پھل نہ پھول ہوتا نہ تو برگ و بار ہوتا
نہیں مجھ کو ہے تمنا بجز اس کے شمع ر و کچھ
کہ پتنگے کی طرح سے میں ترا نثار ہوتا
یہ نصیبوں سے ہے عرفاںؔ کہ ہے رنج یار مونس
غم عشق گر نہ ہوتا غم روز گار ہوتا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.