Font by Mehr Nastaliq Web

دم مرگ پاس اپنے جو وہ گل عذار ہوتا

شاہ کبیر داناپوری

دم مرگ پاس اپنے جو وہ گل عذار ہوتا

شاہ کبیر داناپوری

MORE BYشاہ کبیر داناپوری

    دم مرگ پاس اپنے جو وہ گل عذار ہوتا

    مجھے موسم خزاں میں مزۂ بہار ہوتا

    مرے حال پر صبا کی جو نگاہ لطف ہوتی

    ترے کوچے میں نگارایہ مرا غبار ہوتا

    نہ مثال مرغ بسمل یہ پھڑک کے جان دیتا

    ترے ناوکِ نگہ کا جو نہ دل شکار ہوتا

    ترے عشق کے بدولت مرے نالۂ حزیں سے

    کوئی دل کو تھام لیتا کوئی بے قرار ہوتا

    اسے عندلیب شیدا جو ذرا بھی دیکھ لیتی

    یہ ہر ایک پھول گلشن کا نظر میں خار ہوتا

    میں وہ سوختہ جگر ہوں کہ جو ہوتا دفن میں بھی

    مری قبر کے سرہانے شجر چنار ہوتا

    ہوں وہ نامراد میں بھی جو ہوتا نخل گلشن

    نہ تو پھل نہ پھول ہوتا نہ تو برگ و بار ہوتا

    نہیں مجھ کو ہے تمنا بجز اس کے شمع ر و کچھ

    کہ پتنگے کی طرح سے میں ترا نثار ہوتا

    یہ نصیبوں سے ہے عرفاںؔ کہ ہے رنج یار مونس

    غم عشق گر نہ ہوتا غم روز گار ہوتا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے