دنیا کے چمن میں یوں تو اکثر
دنیا کے چمن میں یوں تو اکثر
آتی ہے بہار روح پرور
لیکن وہ بہارِ زندگانی
وہ صبح نشاطِ جاودانی
وہ جس کی کہ دھوم تھی جہاں میں
آئی تھی کہاں ابھی جہاں میں
ہر چیز تھی منتظر اسی کی
سیاروں کی آنکھ راہ پر تھی
گردش میں تھا چرخ رات اور دن
بے چین تھے ماہ و مہر اس دن
بے تاب خلیل کی دعا تھی
معمور اسی سے کل فضا تھی
تھی چشم براہ روحِ موسیٰ
مضطر تھی پئے نوید عیسیٰ
تھا شور اسی کا بلبلوں میں
تھی تاب نہ صبر کی گلوں میں
نرگس کی نگاہ تک رہی تھی
برسوں سے راہ تک رہی تھی
پھرتی تھی صبا اس کی دھن میں
سنبل تھی اسی ادھیڑ بن میں
سوسن کی زبان پر دعا تھی
ہر برگ کے لب پہ التجا تھی
شبنم، ہر صبح ہو کے مضطر
کہتی تھی یہی بہ دیدۂ تر
اے کاش وہ صبح جلد آئے
غم سے دنیا نجات پائے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.