Font by Mehr Nastaliq Web

جو رکھتا تاج حق نے فرق آدم پر کرامت کا

شیخ کمال احمد

جو رکھتا تاج حق نے فرق آدم پر کرامت کا

شیخ کمال احمد

MORE BYشیخ کمال احمد

    دلچسپ معلومات

    قصیدہ

    جو رکھتا تاج حق نے فرق آدم پر کرامت کا

    وہ باعث تھا ازل میں تیرے ہی جلوہ کی فطرت کا

    بنائے کیوں نہ ذرے ذرے کو شاہد رسالت کا

    ضیاے مہر پر تو ہے ترے نورِ نبوت کا

    کوئی نازاں عبادت پر کسی کو فخر طاعت کا

    بھروسہ ہم گنہگاروں کو ہے تیری شفاعت کا

    وسیلے کی سند لکھی ہوئی آدم کے ہاتھ آئی

    جو دیکھا نام حق کے ساتھ نام پاک حضرت کا

    رہا آغاز سے انجام تک کیسا خیال ان کو

    رسولوں میں کوئی غمخوار ایسا ہے بھی امت کا

    کسی سے بھی علاج معصیت ہوتا نہ محشر میں

    اگر ہوتا نہ ہر زخم دل مرہم شفاعت کا

    ترے باعث سے کیا کیا پرورش حق کی ہے انساں پر

    در تو بہ ادھر وا ہے ادھر دروازہ رحمت کا

    عدم سے لایا تھا شوقِ زیارت تیرا ہستی میں

    یہاں اب منتظر ہوں وعدۂ روزِ قیامت کا

    صبا جانا مدینے میں تو اتنا عرض کر دینا

    کہ اب اچھا نہیں احوال مشتاق زیارت کا

    تو وہ ہے جلوۂ نور حقیقت جس کے پر تو سے

    ازل سے تا ابد ہے راستہ روشن ہدایت کا

    نمایا شان واحد کی ہے ذات پاک احمد سے

    محمد میں نظر آتا ہے جلوہ ذات وحدت کا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے