جو رکھتا تاج حق نے فرق آدم پر کرامت کا
دلچسپ معلومات
قصیدہ
جو رکھتا تاج حق نے فرق آدم پر کرامت کا
وہ باعث تھا ازل میں تیرے ہی جلوہ کی فطرت کا
بنائے کیوں نہ ذرے ذرے کو شاہد رسالت کا
ضیاے مہر پر تو ہے ترے نورِ نبوت کا
کوئی نازاں عبادت پر کسی کو فخر طاعت کا
بھروسہ ہم گنہگاروں کو ہے تیری شفاعت کا
وسیلے کی سند لکھی ہوئی آدم کے ہاتھ آئی
جو دیکھا نام حق کے ساتھ نام پاک حضرت کا
رہا آغاز سے انجام تک کیسا خیال ان کو
رسولوں میں کوئی غمخوار ایسا ہے بھی امت کا
کسی سے بھی علاج معصیت ہوتا نہ محشر میں
اگر ہوتا نہ ہر زخم دل مرہم شفاعت کا
ترے باعث سے کیا کیا پرورش حق کی ہے انساں پر
در تو بہ ادھر وا ہے ادھر دروازہ رحمت کا
عدم سے لایا تھا شوقِ زیارت تیرا ہستی میں
یہاں اب منتظر ہوں وعدۂ روزِ قیامت کا
صبا جانا مدینے میں تو اتنا عرض کر دینا
کہ اب اچھا نہیں احوال مشتاق زیارت کا
تو وہ ہے جلوۂ نور حقیقت جس کے پر تو سے
ازل سے تا ابد ہے راستہ روشن ہدایت کا
نمایا شان واحد کی ہے ذات پاک احمد سے
محمد میں نظر آتا ہے جلوہ ذات وحدت کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.