وہ نکلا جس گھڑی غارِ حرا سے
وہ نکلا جس گھڑی غارِ حرا سے
چمک اٹھا جہاں اس کی ضیا سے
نہ پوچھو طلعتِ روئے منور
جہاں میں روشنی ہے نقشِ پا سے
ملے گی ہر اذیت سے رہائی
کوئی سیکھے ازل کے رہنما سے
تری گفتار پُر تاثیر ہوگی
اگر آغاز ہو صلِ علیٰ سے
محبت ہے اگر محبوبِ رب سے
تو پھر بچ جائو گے رب کی سزا سے
ہے عزت رب کے ہاں ذکرِ نبی سے
ملے کیا خاک لوگوں کی ثنا سے
سبھی شاہوں کو میرا مشورہ ہے
نہ ٹکرانا کبھی ان کے گدا سے
ترے عشاق نے تو جب بھی مانگا
تری چاہت ہی مانگی ہے خدا سے
شکیلؔ اک ذرۂ بے آبرو تھا
بھرا کاسہ ہے اب ان کی عطا سے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.