Font by Mehr Nastaliq Web

وہ نکلا جس گھڑی غارِ حرا سے

شکیل نقشبندی

وہ نکلا جس گھڑی غارِ حرا سے

شکیل نقشبندی

MORE BYشکیل نقشبندی

    وہ نکلا جس گھڑی غارِ حرا سے

    چمک اٹھا جہاں اس کی ضیا سے

    نہ پوچھو طلعتِ روئے منور

    جہاں میں روشنی ہے نقشِ پا سے

    ملے گی ہر اذیت سے رہائی

    کوئی سیکھے ازل کے رہنما سے

    تری گفتار پُر تاثیر ہوگی

    اگر آغاز ہو صلِ علیٰ سے

    محبت ہے اگر محبوبِ رب سے

    تو پھر بچ جائو گے رب کی سزا سے

    ہے عزت رب کے ہاں ذکرِ نبی سے

    ملے کیا خاک لوگوں کی ثنا سے

    سبھی شاہوں کو میرا مشورہ ہے

    نہ ٹکرانا کبھی ان کے گدا سے

    ترے عشاق نے تو جب بھی مانگا

    تری چاہت ہی مانگی ہے خدا سے

    شکیلؔ اک ذرۂ بے آبرو تھا

    بھرا کاسہ ہے اب ان کی عطا سے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے