حضور مجھ کو بھی بلوائیے خدا کے لیے
حضور مجھ کو بھی بلوائیے خدا کے لیے
مرا نصیب بھی چمکائیے خدا کے لیے
حضور آپ کے دم سے ہے چراغاں ہر سو
مجھے بھی راستہ دکھلائیے خدا کے لیے
حضور ایک بھکاری ہوں بے ادب حاضر
قبول مجھ کو بھی فرمائیے خدا کے لیے
ہیں آپ رب کے خزانوں کو بانٹنے والے
متاعِ سوز تو دے جائیے خدا کے لیے
درِ حضور ہی قبلہ ہے ازل سے لوگو
نہ اور کچھ مجھے سمجھائیے خدا کے لیے
حضور کیا مری اوقات پر کسی شب تو
میرے بھی خوابوں میں آ جائیے خدا کے لیے
مرے بھی قلب کی تسکین کا سامان کرو
بات کچھ زائرو سنائیے خدا کے لیے
کہو نہ شہرِ پیمبر ہے بہت دور شکیلؔ
یہ درد اور نہ بڑھائیے خدا کے لیے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.