Font by Mehr Nastaliq Web

حضور مجھ کو بھی بلوائیے خدا کے لیے

شکیل نقشبندی

حضور مجھ کو بھی بلوائیے خدا کے لیے

شکیل نقشبندی

MORE BYشکیل نقشبندی

    حضور مجھ کو بھی بلوائیے خدا کے لیے

    مرا نصیب بھی چمکائیے خدا کے لیے

    حضور آپ کے دم سے ہے چراغاں ہر سو

    مجھے بھی راستہ دکھلائیے خدا کے لیے

    حضور ایک بھکاری ہوں بے ادب حاضر

    قبول مجھ کو بھی فرمائیے خدا کے لیے

    ہیں آپ رب کے خزانوں کو بانٹنے والے

    متاعِ سوز تو دے جائیے خدا کے لیے

    درِ حضور ہی قبلہ ہے ازل سے لوگو

    نہ اور کچھ مجھے سمجھائیے خدا کے لیے

    حضور کیا مری اوقات پر کسی شب تو

    میرے بھی خوابوں میں آ جائیے خدا کے لیے

    مرے بھی قلب کی تسکین کا سامان کرو

    بات کچھ زائرو سنائیے خدا کے لیے

    کہو نہ شہرِ پیمبر ہے بہت دور شکیلؔ

    یہ درد اور نہ بڑھائیے خدا کے لیے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے