Font by Mehr Nastaliq Web

ہے کائنات کے خالق کا نام وردِ زباں

شکیل نقشبندی

ہے کائنات کے خالق کا نام وردِ زباں

شکیل نقشبندی

MORE BYشکیل نقشبندی

    ہے کائنات کے خالق کا نام وردِ زباں

    میں ایک ذرہ نہیں وقفِ ثنا سارا جہاں

    جبینِ عجز کے سجدے ہیں جلوہ گاہ تری

    ہر ایک اشکِ ندامت میں پایا تیرا نشاں

    ترے کرم نے جہانوں کو گھیر رکھا ہے

    مگر حقیقتِ رحمت نہیں کسی پہ عیاں

    تمہارے نام پہ قرباں تمام ارض و سما

    نبی رسول فرشتے فدا ہیں کون ومکاں

    یہی دلیل ہے کافی کہ تو ہے ربِ رسول

    سمائے عقلِ بشر میں نہیں ہے یہ امکاں

    طلب ضروری ہے کعبے کی بات یاد رہے

    مکیں وہ ایسا ہے ہر کائنات اس کا مکاں

    رہوں میں توبہ پہ قائم سپردِ نفس نہ کر

    الٰہی عجز میں لپٹی رہے ہمیشہ فغاں

    فقط ہے بندہ نوازی جو تو قبول کرے

    تمہاری شان کے لائق کہاں کسی کا بیاں

    شکیلؔ جب کبھی حالات سے پریشاں ہو

    تمہارا ذکر ہی مولیٰ ہو اس کی جائے اماں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے