ہے کائنات کے خالق کا نام وردِ زباں
ہے کائنات کے خالق کا نام وردِ زباں
میں ایک ذرہ نہیں وقفِ ثنا سارا جہاں
جبینِ عجز کے سجدے ہیں جلوہ گاہ تری
ہر ایک اشکِ ندامت میں پایا تیرا نشاں
ترے کرم نے جہانوں کو گھیر رکھا ہے
مگر حقیقتِ رحمت نہیں کسی پہ عیاں
تمہارے نام پہ قرباں تمام ارض و سما
نبی رسول فرشتے فدا ہیں کون ومکاں
یہی دلیل ہے کافی کہ تو ہے ربِ رسول
سمائے عقلِ بشر میں نہیں ہے یہ امکاں
طلب ضروری ہے کعبے کی بات یاد رہے
مکیں وہ ایسا ہے ہر کائنات اس کا مکاں
رہوں میں توبہ پہ قائم سپردِ نفس نہ کر
الٰہی عجز میں لپٹی رہے ہمیشہ فغاں
فقط ہے بندہ نوازی جو تو قبول کرے
تمہاری شان کے لائق کہاں کسی کا بیاں
شکیلؔ جب کبھی حالات سے پریشاں ہو
تمہارا ذکر ہی مولیٰ ہو اس کی جائے اماں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.