Font by Mehr Nastaliq Web

جب تصور تری چوکھٹ کی طرف چلتا ہے

شکیل نقشبندی

جب تصور تری چوکھٹ کی طرف چلتا ہے

شکیل نقشبندی

MORE BYشکیل نقشبندی

    جب تصور تری چوکھٹ کی طرف چلتا ہے

    تیرگی چھٹتی ہے سینے میں دیا جلتا ہے

    ذکرِ سرکار سے آفات بھی ٹل جاتی ہیں

    اور تسکین میں ہر رنج و الم ڈھلتا ہے

    تیرا ہر لمحہ ہے پہلے سے بلندی کی طرف

    والضحیٰ میں اسی رفعت کا پتا چلتا ہے

    جھک کے ملتی ہے اسے شوکتِ دنیا لوگو

    جس طرف بھی مرے آقا کا گدا چلتا ہے

    باندھ کر شہرِ مدینہ کا تصور آقا

    یہ دلِ زار بڑے ناز سے مچلتا ہے

    اپنی رحمت سے کبھی دور نہ کرنا آقا

    اس تصور سے غلاموں کا دل دہلتا ہے

    درِ اصحاب سے نقطہ یہ ملا مجھ کو شکیلؔ

    عشق کامل ہے کہ تقلید میں جب ڈھلتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے