جب تصور تری چوکھٹ کی طرف چلتا ہے
جب تصور تری چوکھٹ کی طرف چلتا ہے
تیرگی چھٹتی ہے سینے میں دیا جلتا ہے
ذکرِ سرکار سے آفات بھی ٹل جاتی ہیں
اور تسکین میں ہر رنج و الم ڈھلتا ہے
تیرا ہر لمحہ ہے پہلے سے بلندی کی طرف
والضحیٰ میں اسی رفعت کا پتا چلتا ہے
جھک کے ملتی ہے اسے شوکتِ دنیا لوگو
جس طرف بھی مرے آقا کا گدا چلتا ہے
باندھ کر شہرِ مدینہ کا تصور آقا
یہ دلِ زار بڑے ناز سے مچلتا ہے
اپنی رحمت سے کبھی دور نہ کرنا آقا
اس تصور سے غلاموں کا دل دہلتا ہے
درِ اصحاب سے نقطہ یہ ملا مجھ کو شکیلؔ
عشق کامل ہے کہ تقلید میں جب ڈھلتا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.