Font by Mehr Nastaliq Web

ارضِ بطحیٰ کی طرح کوئی زمیں ہے تو کہو

شکیل نقشبندی

ارضِ بطحیٰ کی طرح کوئی زمیں ہے تو کہو

شکیل نقشبندی

MORE BYشکیل نقشبندی

    ارضِ بطحیٰ کی طرح کوئی زمیں ہے تو کہو

    سارے عالم میں کوئی اُن سا حسیں ہے تو کہو

    ان کے اندازِ سخاوت کی نہیں مثل کوئی

    ان کے اخلاق سی فرخندہ جبیں ہے تو کہو

    ان کے ہاں اپنے درودوں کو امانت رکھ دو

    میری سرکار سا دنیا میں امیں ہے تو کہو

    رب کے محبوب سے مانگا ہے تو پھر فکر نہ کر

    لبِ سرکار پہ گر لفظِ نہیں ہے تو کہو

    میرے آقا کو تذبذب میں پکارے نہ کوئی

    ہاں اگر ان کی عطاؤں پہ یقیں ہے تو کہو

    رونقِ ارض و سما کا ہے مدینہ مسکن

    ایسی پُر نور فضا اور کہیں ہے تو کہو

    گنبدِ سبز بڑے فخر سے کہتا ہے یہی

    رب کی خلقت میں کہیں ایسا مکیں ہے تو کہو

    رب کے محبوب ہی مقصودِ دو عالم ہیں شکیلؔ

    کچھ بھی آقا کے سوا حاصلِ دیں ہے تو کہو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے