سوئے تشنہ لباں ساغر گیا ہے
سوئے تشنہ لباں ساغر گیا ہے
تمناؤں کا دامن بھر گیا ہے
گئی ہے روح یا پیکر گیا ہے
خرد حیران ہے کیوں کر گیا ہے
نکل کر چاند اک غارِ حرا سے
دو عالم کو منور کر گیا ہے
حریمِ ذات میں ہے جشن برپا
کہ پیغمبر خدا کے گھر گیا ہے
ستارے گردِ رہ کو چومتے ہیں
کوئی اس راہ سے ہو کر گیا ہے
کیا ہے دشمنِ جاں پر تلطف
کرے گا کون جو وہ کر گیا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.