Font by Mehr Nastaliq Web

سوئے تشنہ لباں ساغر گیا ہے

شاکر القادری

سوئے تشنہ لباں ساغر گیا ہے

شاکر القادری

MORE BYشاکر القادری

    سوئے تشنہ لباں ساغر گیا ہے

    تمناؤں کا دامن بھر گیا ہے

    گئی ہے روح یا پیکر گیا ہے

    خرد حیران ہے کیوں کر گیا ہے

    نکل کر چاند اک غارِ حرا سے

    دو عالم کو منور کر گیا ہے

    حریمِ ذات میں ہے جشن برپا

    کہ پیغمبر خدا کے گھر گیا ہے

    ستارے گردِ رہ کو چومتے ہیں

    کوئی اس راہ سے ہو کر گیا ہے

    کیا ہے دشمنِ جاں پر تلطف

    کرے گا کون جو وہ کر گیا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے