تاج لولاک لما کا ترے سر پر رکھا
تاج لولاک لما کا ترے سر پر رکھا
رنگِ ہستی کی نمو میں ترا جوہر رکھا
کہیں منبر کہیں محراب کہیں در رکھا
میری آنکھوں میں ترے شہر کا منظر رکھا
اشک آباد کیا میں نے شبستانِ وجود
نعت لکھتے ہوئے قرطاس کو بھی تر رکھا
تیرے اللہ نے کوثر سے نوازا ہے تجھے
تیرے گستاخ کو بدخواہ کو ابتر رکھا
غیر کا دست نگر مجھ کو بنایا نہ کبھی
میرے مولیٰ نے مجھے اپنا گداگر رکھا
دولتِ فقر و قناعت سے نوازا ہے مجھے
اس نے شاہوں کی طرح مجھ کو تونگر رکھا
اس نے شاداب رکھا دل کی زمیں کو ہر دم
ہر گھڑی نخلِ تمنا کو ثمرور رکھا
حسنِ اخلاق کی رعنائی سے دل جیت لیے
ہاتھ میں تیر نہ شمشیر نہ خنجر رکھا
سنگ ریزوں کی گواہی تو بہت کافی تھی
عقل پہ اپنی ابوجہل نے پتھر رکھا
پھر اسے کوئی فرو دست نہیں کر پایا
جس کو اللہ کے محبوب نے برتر رکھا
میں نے محرابِ عقیدت میں جبیں سائی کی
معبدِ جاں کا ہر اک گوشہ منور رکھا
اس کی دہلیز کے لائق تو نہیں سر لیکن
کاش موت آئے تو دہلیز پہ ہو سر رکھا
سارے الفاظ تہی دست ہیں شاکرؔ ورنہ
دل کے جزدان میں ہے نعت کا دفتر رکھا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.