Font by Mehr Nastaliq Web

تاج لولاک لما کا ترے سر پر رکھا

شاکر القادری

تاج لولاک لما کا ترے سر پر رکھا

شاکر القادری

MORE BYشاکر القادری

    تاج لولاک لما کا ترے سر پر رکھا

    رنگِ ہستی کی نمو میں ترا جوہر رکھا

    کہیں منبر کہیں محراب کہیں در رکھا

    میری آنکھوں میں ترے شہر کا منظر رکھا

    اشک آباد کیا میں نے شبستانِ وجود

    نعت لکھتے ہوئے قرطاس کو بھی تر رکھا

    تیرے اللہ نے کوثر سے نوازا ہے تجھے

    تیرے گستاخ کو بدخواہ کو ابتر رکھا

    غیر کا دست نگر مجھ کو بنایا نہ کبھی

    میرے مولیٰ نے مجھے اپنا گداگر رکھا

    دولتِ فقر و قناعت سے نوازا ہے مجھے

    اس نے شاہوں کی طرح مجھ کو تونگر رکھا

    اس نے شاداب رکھا دل کی زمیں کو ہر دم

    ہر گھڑی نخلِ تمنا کو ثمرور رکھا

    حسنِ اخلاق کی رعنائی سے دل جیت لیے

    ہاتھ میں تیر نہ شمشیر نہ خنجر رکھا

    سنگ ریزوں کی گواہی تو بہت کافی تھی

    عقل پہ اپنی ابوجہل نے پتھر رکھا

    پھر اسے کوئی فرو دست نہیں کر پایا

    جس کو اللہ کے محبوب نے برتر رکھا

    میں نے محرابِ عقیدت میں جبیں سائی کی

    معبدِ جاں کا ہر اک گوشہ منور رکھا

    اس کی دہلیز کے لائق تو نہیں سر لیکن

    کاش موت آئے تو دہلیز پہ ہو سر رکھا

    سارے الفاظ تہی دست ہیں شاکرؔ ورنہ

    دل کے جزدان میں ہے نعت کا دفتر رکھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے