تھم تھم! کہ برسنا ہے تجھے دیدۂ تر اور
تھم تھم! کہ برسنا ہے تجھے دیدۂ تر اور
کرنے ہیں نچھاور تجھے کچھ لعل و گہر اور
رقصاں ہے لبِ گل پہ بہاروں کی کہانی
آپ آئے نسیم آئی کھلا رنگِ سحر اور
پلکوں پہ فروزاں ہیں دھنک رنگ ستارے
بے تاب تمنا ہے کہ بس ایک نظر اور
اک اسمِ دلآویز محمد ہے کہ جس سے
ہر دم ہے فزوں روشنیِ قلب و نظر اور
جب سے ہے سنا آپ شفیعِ دو جہاں ہیں
اترانے لگا ہے یہ مرا دامنِ تر اور
جھکتی ہے جبیں واں پہ تو جھکتا ہے یہاں دل
کعبہ کا اثر اور ہے طیبہ کا اثر اور
شاکرؔ میں ہوا جب سے ثنا گوئے محمد
ہیں میرے شب و روز مرے شام و سحر اور
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.