Font by Mehr Nastaliq Web

تھم تھم! کہ برسنا ہے تجھے دیدۂ تر اور

شاکر القادری

تھم تھم! کہ برسنا ہے تجھے دیدۂ تر اور

شاکر القادری

MORE BYشاکر القادری

    تھم تھم! کہ برسنا ہے تجھے دیدۂ تر اور

    کرنے ہیں نچھاور تجھے کچھ لعل و گہر اور

    رقصاں ہے لبِ گل پہ بہاروں کی کہانی

    آپ آئے نسیم آئی کھلا رنگِ سحر اور

    پلکوں پہ فروزاں ہیں دھنک رنگ ستارے

    بے تاب تمنا ہے کہ بس ایک نظر اور

    اک اسمِ دلآویز محمد ہے کہ جس سے

    ہر دم ہے فزوں روشنیِ قلب و نظر اور

    جب سے ہے سنا آپ شفیعِ دو جہاں ہیں

    اترانے لگا ہے یہ مرا دامنِ تر اور

    جھکتی ہے جبیں واں پہ تو جھکتا ہے یہاں دل

    کعبہ کا اثر اور ہے طیبہ کا اثر اور

    شاکرؔ میں ہوا جب سے ثنا گوئے محمد

    ہیں میرے شب و روز مرے شام و سحر اور

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے