تو خاتمِ کونین کا رخشندہ نگیں ہے
تو خاتمِ کونین کا رخشندہ نگیں ہے
تو فخرِ رسل مہبطِ جبریلِ امیں ہے
لفظوں کے مقدر میں کہاں اتنی رسائی
اوصاف بیاں ہوں ترے ممکن ہی نہیں ہے
لمحے ترے دربار میں چپ چاپ کھڑے ہیں
تعظیم کو خم صبحِ سعادت کی جبیں ہے
رہبر کی نہ رہوار کی ہے تجھ کو ضرورت
تیرے لیے دوچار قدم عرش بریں ہے
اے مظہرِ آیاتِ دنا و فتدلیٰ
تو دیدۂ قوسین کی عظمت کا امیں ہے
سرتاجِ فصیحانِ عرب گنجِ بلاغت
امی ہے مگر صاحبِ قرآنِ مبیں ہے
اے مہرِ عرب انجمن آرائے مدینہ
فردوسِ نظر تجھ سے مدینے کی زمیں ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.