Font by Mehr Nastaliq Web

تو خاتمِ کونین کا رخشندہ نگیں ہے

شاکر القادری

تو خاتمِ کونین کا رخشندہ نگیں ہے

شاکر القادری

MORE BYشاکر القادری

    تو خاتمِ کونین کا رخشندہ نگیں ہے

    تو فخرِ رسل مہبطِ جبریلِ امیں ہے

    لفظوں کے مقدر میں کہاں اتنی رسائی

    اوصاف بیاں ہوں ترے ممکن ہی نہیں ہے

    لمحے ترے دربار میں چپ چاپ کھڑے ہیں

    تعظیم کو خم صبحِ سعادت کی جبیں ہے

    رہبر کی نہ رہوار کی ہے تجھ کو ضرورت

    تیرے لیے دوچار قدم عرش بریں ہے

    اے مظہرِ آیاتِ دنا و فتدلیٰ

    تو دیدۂ قوسین کی عظمت کا امیں ہے

    سرتاجِ فصیحانِ عرب گنجِ بلاغت

    امی ہے مگر صاحبِ قرآنِ مبیں ہے

    اے مہرِ عرب انجمن آرائے مدینہ

    فردوسِ نظر تجھ سے مدینے کی زمیں ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے