یا نبی حسنِ عمل سے آسرا کچھ بھی نہیں
یا نبی حسنِ عمل سے آسرا کچھ بھی نہیں
اعترافِ جرمِ عصیاں کے سوا کچھ بھی نہیں
چارۂ غم آپ کے الطاف پر موقوف ہے
میرے بس کا یا محمد مصطفیٰ کچھ بھی نہیں
صدقِ دل ہے شرط پھر لطف وکرم ہے اور ہم
کون کہتا ہے کہ یہ آہ و بکا کچھ بھی نہیں
چاہتا ہوں دفن کو دو گز زمیں جنت کی میں
اب مرا ارمان مدینہ کے سوا کچھ بھی نہیں
آپ کے دیدار کا شیواؔ کو مل جائے شرف
اس سے بڑھ کر اور اس کی التجا کچھ بھی نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.