Font by Mehr Nastaliq Web

جلوۂ چہرۂ تاباں ہے اجالا کیا ہے

شیام بدایونی

جلوۂ چہرۂ تاباں ہے اجالا کیا ہے

شیام بدایونی

MORE BYشیام بدایونی

    جلوۂ چہرۂ تاباں ہے اجالا کیا ہے

    پرتو گیسوئے خمدار ہے سایا کیا ہے

    ماہ نو کیا ہے ترے زلف کی دلکش محراب

    بوند ہے تیرے پسینے کی ستارا کیا ہے

    آپ کے عارض و گیسو کی جھلک تھی جس میں

    اس زمانے کے شب و روز کا کہنا کیا ہے

    اپنی محفل کے لیے ان سے اجالا مانگو

    شیامؔ اس دور کی شمعوں کا بھروسا کیا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے