جلوۂ چہرۂ تاباں ہے اجالا کیا ہے
جلوۂ چہرۂ تاباں ہے اجالا کیا ہے
پرتو گیسوئے خمدار ہے سایا کیا ہے
ماہ نو کیا ہے ترے زلف کی دلکش محراب
بوند ہے تیرے پسینے کی ستارا کیا ہے
آپ کے عارض و گیسو کی جھلک تھی جس میں
اس زمانے کے شب و روز کا کہنا کیا ہے
اپنی محفل کے لیے ان سے اجالا مانگو
شیامؔ اس دور کی شمعوں کا بھروسا کیا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.