دعا شاہ قاتل اثر شاہ قاتل
دلچسپ معلومات
نوٹ: یہ مشاعرہ حضرت قاتلؔ اجمیری کے عرس کی مناسبت سے عیدگاہ میدان، بندر روڈ، کراچی میں منعقد ہوا تھا، اس مشاعرے کی صدارت بہزادؔ لکھنوی نے فرمائی تھی، جبکہ مصرعِ طرح ’’تمہیں ڈھونڈتی ہے نظر شاہِ قاتل‘‘ مقرر کیا گیا تھا۔
دعا شاہ قاتل اثر شاہ قاتل
ادھر شاہ قاتل ادھر شاہ قاتل
نظر کی بلندی تمہیں نے تو بخشی
کہ دیکھا اسے عرش پر شاہ قاتل
ہے دل میں کہ کہہ دوں جو راز بشر ہے
زباں روکتی ہے مگر شاہ قاتل
جو پردہ کیا ہے تو اب میں نے سمجھا
کہ ہے امتحانِ نظر شاہ قاتل
محبت تری چٹکیاں لے رہی ہے
تڑپتے ہیں قلب و جگر شاہ قاتل
نظر میری جلووں سے کیا مطمئن ہو
کہ تم ہو مرادِ نظر شاہِ قاتل
- کتاب : Gulha-e-Aqidat (Pg. 39)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.