Font by Mehr Nastaliq Web

دعا شاہ قاتل اثر شاہ قاتل

سہیل حیدرآبادی

دعا شاہ قاتل اثر شاہ قاتل

سہیل حیدرآبادی

MORE BYسہیل حیدرآبادی

    دلچسپ معلومات

    نوٹ: یہ مشاعرہ حضرت قاتلؔ اجمیری کے عرس کی مناسبت سے عیدگاہ میدان، بندر روڈ، کراچی میں منعقد ہوا تھا، اس مشاعرے کی صدارت بہزادؔ لکھنوی نے فرمائی تھی، جبکہ مصرعِ طرح ’’تمہیں ڈھونڈتی ہے نظر شاہِ قاتل‘‘ مقرر کیا گیا تھا۔

    دعا شاہ قاتل اثر شاہ قاتل

    ادھر شاہ قاتل ادھر شاہ قاتل

    نظر کی بلندی تمہیں نے تو بخشی

    کہ دیکھا اسے عرش پر شاہ قاتل

    ہے دل میں کہ کہہ دوں جو راز بشر ہے

    زباں روکتی ہے مگر شاہ قاتل

    جو پردہ کیا ہے تو اب میں نے سمجھا

    کہ ہے امتحانِ نظر شاہ قاتل

    محبت تری چٹکیاں لے رہی ہے

    تڑپتے ہیں قلب و جگر شاہ قاتل

    نظر میری جلووں سے کیا مطمئن ہو

    کہ تم ہو مرادِ نظر شاہِ قاتل

    مأخذ :
    • کتاب : Gulha-e-Aqidat (Pg. 39)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے