ممکن نہیں کہ خونِ رسولِ خدا نہ ہو
دلچسپ معلومات
منقبت در شان حضرت امام حسین (کربلا-عراق)
ممکن نہیں کہ خونِ رسولِ خدا نہ ہو
حملہ نبی کے دیں پہ ہو اور کربلا نہ ہو
یا رب کسی بھی باپ کی آنکھوں کے سامنے
اس کا جوان چاند سا بیٹا جدا نہ ہو
صحرا کی چل ملاتی ہوئی دھوپ میں خدا
ہاں در بدر جہاں میں کوئی قافلہ نہ ہو
غازی کو اس لیے ہی تو روکا تھا شاہ نے
کرب و بلا میں ہی کہیں محشر بپا نہ ہو
اصغر کا دے کے واسطہ مانگے حسین سے
قسمت میں جس کی ایک بھی بیٹا لکھا نہ ہو
ہرگز کنیزِ سیدہ زہرا نہیں ہے وہ
جس کو ذرا سا پردے کا کچھ بھی پتہ نہ ہو
دوزخ کرے گی اپنے ہی خاطر اسے قبول
جس دل میں پاسِ الفتِ آلِ عبا نہ ہو
آ جائے وہ بھی در پہ شہِ بے نیاز کے
جس نے حسنؔ شرابِ وِلا کو پیا نہ ہو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.