نیزے پہ تھا جب دلبرِ کرار کا چہرہ
دلچسپ معلومات
منقبت در شان حضرت علی مرتضیٰ (نجف-عراق)
نیزے پہ تھا جب دلبرِ کرار کا چہرہ
تھا مثلِ قمر شاہ کے سالار کا چہرہ
ہاں چہرۂ شبیر وہ چہرہ تھا کہ جس میں
آتا تھا نظر احمدِ مختار کا چہرہ
خود لینے اترتے تھے ملائک بھی بلائیں
کچھ ایسا تھا شبّیر کے انصار کا چہرہ
وہ رعب تھا خطبے کی جلالت میں علی کا
تھا مثلِ علی عابدِ بیمار کا چہرہ
اکبر کی شہادت پہ کہا سبطِ نبی نے
ڈوبا ہے لہو میں شہِ ابرار کا چہرہ
اک تیری بقا کے لیے اے دینِ خدا بس
شبیر نے دیکھا نہیں گھر بار کا چہرہ
محشر میں لگائیں گے اسے شاہ گلے سے
دیکھیں گے وہ جب اپنے عزادار کا چہرہ
پہلے سے بھی آتا ہے نظر اور حسیں تر
با وقتِ نزع شہ کے پرستار کا چہرہ
وہ بھی اے حسنؔ لائی گئیں تھی سرِ بازار
دیکھا نہ تھا جس نے کبھی بازار کا چہرہ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.