Font by Mehr Nastaliq Web

خانۂ کعبہ پہ میری جب پڑی میری نظر

طاہر سلطانی

خانۂ کعبہ پہ میری جب پڑی میری نظر

طاہر سلطانی

MORE BYطاہر سلطانی

    خانۂ کعبہ پہ میری جب پڑی میری نظر

    بن گیا تھا دل میرا اک رحمتوں والا شجر

    سامنے کعبہ ہے میرے اور خدا کا نور ہے

    سنگِ اسود کا لیا بوسہ تو دل مسرور ہے

    چار عالم سے خدا کے بندے آتے ہیں یہاں

    رب سکون و امن کا دیتا ہے ان کو سائباں

    سب طوافِ کعبہ میں مصروف ہیں دیوانہ وار

    رب کی طاعت کر رہے ہیں مہرباں پروردگار

    اللہ اللہ وہ اذانِ سحر کعبہ بھی سنی

    وجد میں سارا حرم تھا اور رقصاں زندگی

    کر رہے تھے سب ثنا ربِ دوعالم کی وہاں

    رب کی رحمت سے وہاں پر منہ چھپاتی ہے خزاں

    آسماں سے قافلہ اترا فرشتوں کا وہاں

    بارشِ انوار رب کی ہو رہی ہے بے گماں

    نوجواں لڑکا تھا اپنے باپ کو لے کر رواں

    رب کو راضی کر رہا تھا کعبہ میں وہ نوجواں

    یاد آئیں حاجرہ بی بی صفا پہ ہر قدم

    حاجی کرتا ہے سعی، یہ رب کا ان پر ہے کرم

    دن میں سورج بھی تو آتا ہے حرم کو چومنے

    چاند آتا ہے حرم میں لگتا ہے وہ جھومنے

    یاد کر حضرت خلیل اللہ کے ایثار کو

    چومنا طاہرؔ تو کعبے کے در و دیوار کو

    آ تو کعبے میں تجھے مل جائیں گے دونوں جہاں

    بارگاہِ رب ہے یہ ملتی ہے ہر اک کو اماں

    رب کا کعبہ ہم مسلمانوں کی طاہرؔ شان ہے

    ہم مسلمانوں کی واللہ خاص یہ پہچان ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے