خانۂ کعبہ پہ میری جب پڑی میری نظر
خانۂ کعبہ پہ میری جب پڑی میری نظر
بن گیا تھا دل میرا اک رحمتوں والا شجر
سامنے کعبہ ہے میرے اور خدا کا نور ہے
سنگِ اسود کا لیا بوسہ تو دل مسرور ہے
چار عالم سے خدا کے بندے آتے ہیں یہاں
رب سکون و امن کا دیتا ہے ان کو سائباں
سب طوافِ کعبہ میں مصروف ہیں دیوانہ وار
رب کی طاعت کر رہے ہیں مہرباں پروردگار
اللہ اللہ وہ اذانِ سحر کعبہ بھی سنی
وجد میں سارا حرم تھا اور رقصاں زندگی
کر رہے تھے سب ثنا ربِ دوعالم کی وہاں
رب کی رحمت سے وہاں پر منہ چھپاتی ہے خزاں
آسماں سے قافلہ اترا فرشتوں کا وہاں
بارشِ انوار رب کی ہو رہی ہے بے گماں
نوجواں لڑکا تھا اپنے باپ کو لے کر رواں
رب کو راضی کر رہا تھا کعبہ میں وہ نوجواں
یاد آئیں حاجرہ بی بی صفا پہ ہر قدم
حاجی کرتا ہے سعی، یہ رب کا ان پر ہے کرم
دن میں سورج بھی تو آتا ہے حرم کو چومنے
چاند آتا ہے حرم میں لگتا ہے وہ جھومنے
یاد کر حضرت خلیل اللہ کے ایثار کو
چومنا طاہرؔ تو کعبے کے در و دیوار کو
آ تو کعبے میں تجھے مل جائیں گے دونوں جہاں
بارگاہِ رب ہے یہ ملتی ہے ہر اک کو اماں
رب کا کعبہ ہم مسلمانوں کی طاہرؔ شان ہے
ہم مسلمانوں کی واللہ خاص یہ پہچان ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.