فضلِ رب سے طیبہ آیا میں کہاں طیبہ کہاں
فضلِ رب سے طیبہ آیا میں کہاں طیبہ کہاں
کرتا ہوں میں شکر رب کا میں کہاں طیبہ کہاں
یا الٰہی اذن دے کعبہ سے طیبہ کا مجھے
بس یہی ہے اک تمنا میں کہاں طیبہ کہاں
خانۂ کعبہ میں آ کر دل ہوا ہے باغ باغ
پھر وہ طیبہ یاد آیا میں کہاں طیبہ کہاں
خاتمہ بالخیر ہو طیبہ میں میرا اے خدا
آرزو ہے یہ خدایا میں کہاں طیبہ کہاں
یا الٰہی اذن دے کعبہ سے طیبہ کا مجھے
بس یہی ہے اک تمنا میں کہاں طیبہ کہاں
طوفِ کعبہ کر رہا تھا طاہرِؔ خستہ مگر
آ رہا تھا یاد بطحیٰ میں کہاں طیبہ کہاں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.