Font by Mehr Nastaliq Web

فضلِ رب سے طیبہ آیا میں کہاں طیبہ کہاں

طاہر سلطانی

فضلِ رب سے طیبہ آیا میں کہاں طیبہ کہاں

طاہر سلطانی

MORE BYطاہر سلطانی

    فضلِ رب سے طیبہ آیا میں کہاں طیبہ کہاں

    کرتا ہوں میں شکر رب کا میں کہاں طیبہ کہاں

    یا الٰہی اذن دے کعبہ سے طیبہ کا مجھے

    بس یہی ہے اک تمنا میں کہاں طیبہ کہاں

    خانۂ کعبہ میں آ کر دل ہوا ہے باغ باغ

    پھر وہ طیبہ یاد آیا میں کہاں طیبہ کہاں

    خاتمہ بالخیر ہو طیبہ میں میرا اے خدا

    آرزو ہے یہ خدایا میں کہاں طیبہ کہاں

    یا الٰہی اذن دے کعبہ سے طیبہ کا مجھے

    بس یہی ہے اک تمنا میں کہاں طیبہ کہاں

    طوفِ کعبہ کر رہا تھا طاہرِؔ خستہ مگر

    آ رہا تھا یاد بطحیٰ میں کہاں طیبہ کہاں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے