شہرِ خزاں کو اے مرے مولیٰ نکھار دے
شہرِ خزاں کو اے مرے مولیٰ نکھار دے
موسم بہار کا اسے پھر کردگار دے
عصیاں کا بوجھ سر سے ہمارے اتار دے
یا رب تو پل صراط سے ہم کو گزار دے
رہزن بنے ہوئے ہیں ہمارے یہ حکمراں
حاکم ہمیں تو نیک دے اور باوقار دے
مظلوم! کے لبوں پہ صدائیں ہیں اب یہی
ظالم کو اب تو اور نہ راہِ فرار دے
ہے حکمراں کوئی تو غلامی میں ہے کوئی
مولیٰ تو جس کو چاہے اسے اختیار دے
کاسہ کسی کے ہاتھ میں ہے تاجور کوئی
یہ اس کی دین ہے جسے پروردگار دے
طاہرؔ ہے ملکِ پاک لہو رنگ آج کل
اے ربِ کائنات کرم کی بہار دے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.