Font by Mehr Nastaliq Web

ظہورِ دو جہاں ہے پرتو انور محمد کا

تنویر نارنولی

ظہورِ دو جہاں ہے پرتو انور محمد کا

تنویر نارنولی

MORE BYتنویر نارنولی

    دلچسپ معلومات

    زیرِ نظر کلام خواجہ نور محمد چشتی مہاروی کے سالانہ عرسِ مقدس کے موقع پر بتاریخ 17 مارچ 1935ء، محلہ پیپلی کاٹیان، جئے پور میں منعقد ہونے والے ایک طرحی مشاعرے میں پیش کیا گیا، اس مشاعرے کے لیے مصرعِ طرح "ظہورِ دو جہاں ہے پرتو انوارِ محمد کا" مقرر کیا گیا تھا، بعد ازاں اس مشاعرے میں شریک شعرا کے تمام کلام کو "مظہرِ معرفت" کے نام سے شائع کیا گیا۔

    ظہورِ دو جہاں ہے پرتو انور محمد کا

    صدورِ دو جہاں ہے پرتو انور محمد کا

    نشاط و شادمانی دونوں عالم کی اسی سے ہے

    سرورِ دو جہاں ہے پرتو انور محمدکا

    جن و انس و ملک نے نیک و بد کو اس سے پہچانا

    شعورِ دو جہاں ہے پرتو انور محمد کا

    ہر اک ہے اس کا شیدائی ہر اک اس کا فدائی ہے

    کہ حورِ دو جہاں ہے پرتو انور محمد کا

    نہ ہو تنویرؔ کیوں دونوں جہاں میں روشنی اس کی

    کہ نورِ دو جہاں ہے پرتو انور محمد کا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے