کرے گا اور کوئی وصف کیا نورِ محمد کا
دلچسپ معلومات
کرے گا اور کوئی وصف کیا نورِ محمد کا
کرے گا اور کوئی وصف کیا نورِ محمد کا
کہ قرآں میں ثنا خواں ہے خدا نورِ محمد کا
وہ ہے اللہ اکبر مرتبا نورِ محمد کا
ادب سے نام لیتا ہے خدا نور محمد کا
جسے دیکھو وہی ہے مبتلا نور محمد کا
جسے دیکھو وہی ہے شیفتا نور محمد کا
نہ کیوں سو جاں سے میں قربان ہوں نور محمد پر
ازل سے دل فدائی ہے مرا نورِ محمد کا
منور کیوں نہ ہو دل نور حق سے سننے والوں کا
جہاں جس بزم میں ہو تذکرہ نورِ محمد کا
اسی کا تذکرہ کرتے ہیں سب عرشی ہوں یا فرشی
دو عالم میں ہے چرچا جابجا نورِ محمد کا
وہیں منہ سے مرے بے ساختہ صلی علیٰ نکلا
کہیں بھی ذکر میں نے گر سنا نورِ محمد کا
بنا کر آپ کی صورت ہوا ہے آپ ہی شیدا
خدا صل علیٰ صل علیٰ نورِ محمد کا
مہ و خورشید کی تنویرؔ دیکھی بھی ضیا تم نے
ذرا سا پڑ گیا ہے پرتو انور محمد کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.