جیسے چھپ جاتی ہے تیرہ شب سحر کے سامنے
جیسے چھپ جاتی ہے تیرہ شب سحر کے سامنے
مہرِ روشن چھپ گیا تیری نظر کے سامنے
اس گل عارض کی دل آرا پھبن کا ذکر چھیڑ
ہم نفس مجھ بلبلِ خستہ جگر کے سامنے
اس حریمِ ناز تک لے جا یہ پیغام اے صبا
تیرے دیوانے کھڑے ہیں رہ گزر کے سامنے
کارِ پاکاں را قیاس از خود مگیر سے بو الفضول
سنگ ریزوں کی حقیقت کیا گہر کے سامنے
آفتاب آمد دلیل آفتاب اے شب پرست
اب بھی ظلمت ہے مگر تیری نظر کے سامنے
کاش اے طارقؔ مجھے بھی رقصِ بسمل ہو نصیب
خنجرِ مژگانِ مازاغ البصر کے سامنے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.