Font by Mehr Nastaliq Web

جیسے چھپ جاتی ہے تیرہ شب سحر کے سامنے

طارق سلطان پوری

جیسے چھپ جاتی ہے تیرہ شب سحر کے سامنے

طارق سلطان پوری

MORE BYطارق سلطان پوری

    جیسے چھپ جاتی ہے تیرہ شب سحر کے سامنے

    مہرِ روشن چھپ گیا تیری نظر کے سامنے

    اس گل عارض کی دل آرا پھبن کا ذکر چھیڑ

    ہم نفس مجھ بلبلِ خستہ جگر کے سامنے

    اس حریمِ ناز تک لے جا یہ پیغام اے صبا

    تیرے دیوانے کھڑے ہیں رہ گزر کے سامنے

    کارِ پاکاں را قیاس از خود مگیر سے بو الفضول

    سنگ ریزوں کی حقیقت کیا گہر کے سامنے

    آفتاب آمد دلیل آفتاب اے شب پرست

    اب بھی ظلمت ہے مگر تیری نظر کے سامنے

    کاش اے طارقؔ مجھے بھی رقصِ بسمل ہو نصیب

    خنجرِ مژگانِ مازاغ البصر کے سامنے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے