پیر میرا ابوالعلا نام پر اس کے ہوں فدا
دلچسپ معلومات
منقبت در شان حضرت سیدنا امیر ابوالعلا (آگرہ-بھارت)
پیر میرا ابوالعلا نام پر اس کے ہوں فدا
زبدۂ خیل اتقیا قدوۂ جملہ اؤلیا
قطب زمیں زماں ہی وہ مرشد مرشداں ہے وہ
رہبر کاملاں ہے وہ عاشق صادق خدا
اختر برج مصطفیٰ گوہر درج مجتبیٰ
چشم و چراغ مرتضیٰ شمع جمال اصفیا
عکس رخ نبی کا ہے آئینہ وہ علی کا ہے
والی وہ ہر ولی کا ہے مظہر خاص کبریا
شیر خدا کے دل کا چین فرحت خاطر حسین
زین عبا کا نور عین عارفوں کا وہ مقتدا
سرو چمن عبید کا ثانی وہ ہے جنید کا
رافع ہے مکر و کید کا دافع درد اور بلا
گلبن باغ نقشبند خواجہ معیں کا دل پسند
باعث فخر اہل ہند مرجع شاہ اور گدا
راحت جاں چشتیاں پیش رو بہشتیاں
ہادی ہر کشتیاں مرشدنا ابوالعلا
فیض جو اس کا عام ہے سب کا یہی کلام ہے
وہ تو میرا امام ہے راہ خدا کا رہنما
کہ تو فقیر الغیاث اے میرے پیر الغیاث
میرے امیر الغیاث بار گنہ سے ہوں دوتا
اب نہ پھروں میں در بدر اے میرے شاہ نامور
نیم نگہ ادھر بھی کر دے ہمارا مدعا
قاسمؔ زار و ناتواں ننگ ابوالعلائیاں
جاوے تو جاوے اب کہاں آقا تو اس کا تو ہوا
تیرے فقیر کی دعا ہے یہی صبح اور مسا
اپنے غلام کا سدا حامی رہے ابوالعلا
- کتاب : نجات قاسمؔ
- Author : شاہ قاسم داناپوری
- مطبع : خانقاہ سجادیہ ابوالعُلائیہ، داناپور (2016)
- اشاعت : Third
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.