Font by Mehr Nastaliq Web

کیا تاب آئے وہ رخ زیبا کے سامنے

نا معلوم

کیا تاب آئے وہ رخ زیبا کے سامنے

نا معلوم

MORE BYنا معلوم

    کیا تاب آئے وہ رخ زیبا کے سامنے

    کس منہ سے مہر ہو مرے آقا کے سامنے

    یار ہو میری روح نثار مزار غوث

    موت آئے مجھ کو روضۂ طیبہ کے سامنے

    اس بے قراریوں کے میں کیوں کر نہ ہوں نثار

    تسکین وہ دیتے ہیں مجھے بٹھلا کے سامنے

    رہ جائے اے خدا کہیں یوسف کی آبرو

    ہوتا ہے ذکر غوث زلیخا کے سامنے

    مدوحین ادب سے جھکتے ہیں پیش قدوم پاک

    دل لوٹتے ہیں نقش کفِ پا کے سامنے

    نکلے ہر ایک بت کی زباں سے بھی نام غوث

    بیٹھوں جو دو گھڑی میں کلیسا کے سامنے

    وہ بحر جو ذہین در مقصد نہ دیں گے کیا

    قطرہ بھی کوئی چیز ہے دریا کے سامنے

    یہ آنکھ وہ نہیں جو رخ غوث سے پھرے

    رضواں بٹھا نہ موروں کو لالہ کے سامنے

    مسکن پہ مجھ فقیر کے شاہوں کو رشک ہے

    بستر ہے غوث کے در والا کے سامنے

    سائلؔ ہوں گنج معرفتِ غوث سے غنی

    منہ تک کروں نہ دولتِ دنیا کے سامنے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے