کیا تاب آئے وہ رخ زیبا کے سامنے
کس منہ سے مہر ہو مرے آقا کے سامنے
یار ہو میری روح نثار مزار غوث
موت آئے مجھ کو روضۂ طیبہ کے سامنے
اس بے قراریوں کے میں کیوں کر نہ ہوں نثار
تسکین وہ دیتے ہیں مجھے بٹھلا کے سامنے
رہ جائے اے خدا کہیں یوسف کی آبرو
ہوتا ہے ذکر غوث زلیخا کے سامنے
مدوحین ادب سے جھکتے ہیں پیش قدوم پاک
دل لوٹتے ہیں نقش کفِ پا کے سامنے
نکلے ہر ایک بت کی زباں سے بھی نام غوث
بیٹھوں جو دو گھڑی میں کلیسا کے سامنے
وہ بحر جو ذہین در مقصد نہ دیں گے کیا
قطرہ بھی کوئی چیز ہے دریا کے سامنے
یہ آنکھ وہ نہیں جو رخ غوث سے پھرے
رضواں بٹھا نہ موروں کو لالہ کے سامنے
مسکن پہ مجھ فقیر کے شاہوں کو رشک ہے
بستر ہے غوث کے در والا کے سامنے
سائلؔ ہوں گنج معرفتِ غوث سے غنی
منہ تک کروں نہ دولتِ دنیا کے سامنے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.