Font by Mehr Nastaliq Web

طیبہ کو جانے والے جا کر بڑے ادب سے

نا معلوم

طیبہ کو جانے والے جا کر بڑے ادب سے

نا معلوم

MORE BYنا معلوم

    طیبہ کو جانے والے جا کر بڑے ادب سے

    میرا بھی قصۂ غم غم کہنا شہ عرب سے

    کہنا کہ شاہ عالم اک رنج و غم کا مارا

    دونوں جہاں میں جس کا ہیں آپ ہی سہارا

    حالات پر الم سے اس دم گزر رہا ہے

    اور کانپتے لبوں سے فریاد کر رہا ہے

    بار گناہ اپنا ہے دوش پر اٹھائے

    کوئی نہیں ہے ایسا جو پوچھنے کو آئے

    بھٹکا ہوا مسافر منزل کو ڈھونڈھتا ہے

    تاریکیوں میں ماہ کامل کو ڈھونڈتا ہے

    سینے میں ہے اندھیرا دل ہے سیاہ خانہ

    یہ ہے میری کہانی سرکار کو سنانا

    کہنا میرے نبی سے محروم ہوں خوشی سے

    سر پر اک ابر غم ہے اشکوں سے آنکھ نم ہے

    پامال زندگی ہوں سرکار کا امتی ہوں

    امت کے رہنما ہو کچھ عرض حال سن لو

    فریاد کر رہا ہوں میں دل فگار کب سے

    میرا بھی قصۂ غم کہنا شہ عرب سے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    امجد صابری

    امجد صابری

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے