Font by Mehr Nastaliq Web

نے تخیل ہے مرے پاس نہ لہجہ شایاں

عروس فاروقی

نے تخیل ہے مرے پاس نہ لہجہ شایاں

عروس فاروقی

MORE BYعروس فاروقی

    نے تخیل ہے مرے پاس نہ لہجہ شایاں

    حمد کیسے میں کہوں جاعلِ ایں خالقِ آں

    تیرا پیغام سناتے ہیں ہوا کے جھونکے

    ذکر تیرا ہی کیا کرتی ہے خوشبوئے گلاں

    نام لیتا ہے ترا جھرنوں سے گرتا پانی

    تیری تسبیح کیا کرتے ہیں دریائے رواں

    گردنیں اونچے درختوں کی ترے سامنے خم

    رعب سے تیرے پہاڑوں کی فرازی لرزاں

    خامشی گہرے سمندر کی ثبوتِ ہیبت

    نغمہ چڑیوں کا تری شانِ عنایت کا بیاں

    تو سمجھ سکتا نہیں ان کے قرآئن کو عروسؔ

    ہیں وگرنہ سبھی اشیائے جہاں مدحت خواں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے