نے تخیل ہے مرے پاس نہ لہجہ شایاں
نے تخیل ہے مرے پاس نہ لہجہ شایاں
حمد کیسے میں کہوں جاعلِ ایں خالقِ آں
تیرا پیغام سناتے ہیں ہوا کے جھونکے
ذکر تیرا ہی کیا کرتی ہے خوشبوئے گلاں
نام لیتا ہے ترا جھرنوں سے گرتا پانی
تیری تسبیح کیا کرتے ہیں دریائے رواں
گردنیں اونچے درختوں کی ترے سامنے خم
رعب سے تیرے پہاڑوں کی فرازی لرزاں
خامشی گہرے سمندر کی ثبوتِ ہیبت
نغمہ چڑیوں کا تری شانِ عنایت کا بیاں
تو سمجھ سکتا نہیں ان کے قرآئن کو عروسؔ
ہیں وگرنہ سبھی اشیائے جہاں مدحت خواں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.