ہے نگاهِ شوق کا مرکز ترا بابِ کرم
ہے نگاهِ شوق کا مرکز ترا بابِ کرم
ٹھہرتا ہے ہر نظر کا کارواں تیرے حضور
ترا کوچہ ہے سبھی کے واسطے دارالسلام
ہر شکستہ دل کو ملتی ہے اماں تیرے حضور
کھول کر کھڑکی تیرے دربار کو تکتا رہوں
کاش مل جائے مدینے میں مکان تیرے حضور
ہے سکوں کتنا تیری دیوار کے سائے تلے
بھول جاتے ہیں غم سود و زیاں تیرے حضور
کچھ نہیں دامن میں عادلؔ کے ندامت کے سوا
پیش ہے یہ آج تیرا نعت خواں تیرے حضور
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.