کم نصیبوں کو عجب عالی مقدر کر دیا
کم نصیبوں کو عجب عالی مقدر کر دیا
آپ نے بے قدر قطروں کو سمندر کر دیا
اللہ اللہ اک نظر کیا آپ کی ان پر پڑی
آپ نے تو سنگ ریزوں کو بھی گوہر کر دیا
ان پہ قرباں جاؤں کیسی ہوگی خوشبوئے بدن
ذہن و دل کو جب تصور نے معطر کر دیا
دیکھتے ہی دیکھتے سب غم کے بادل چھٹ گئے
سارا عالم آپ نے خوشیوں کا منظر کر دیا
فرقِ رنگ و نسل ان میں تھا معاذاللہ عجب
آپ نے آکر ہر اک انساں برابر کر دیا
خواہشوں کی تھی پرستش عام لیکن آپ نے
بندگانِ رب کو بس رب کا گدا گر کر دیا
کیسا ان کا لطف ہے بس ان سے نسبت کے طفیل
نعت گوئی نے تو واحدؔ کو سخنور کر دیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.